پاکستان اور ازبکستان نے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا
ازبکستان کے سفیر علیشیر توختایف نے پاکستان کے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر نیاز احمد اختر سے ملاقات کی۔
ازبکستان کے سفیر علیشیر توختایف نے پاکستان کے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر نیاز احمد اختر سے ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران فریقین نے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ازبکستان اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مزید تیز کرنے کے امور پر تفصیلی بات چیت کی۔ اس کے علاوہ اعلیٰ سطحی اور بلند پایہ دوروں کے تناظر میں حاصل ہونے والے معاہدوں پر عملدرآمد، تعلیمی روابط کو مضبوط بنانے، سائنسی و تحقیقی تعاون کو فروغ دینے اور تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
سفیر علیشیر توختایف نے پاکستانی فریق کو ازبکستان کے صدر کی قیادت میں ملک میں جاری وسیع پیمانے پر تعلیمی اصلاحات سے آگاہ کیا۔ خاص طور پر اعلیٰ تعلیم کے نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے، سائنس اور جدت کو فروغ دینے، اور نوجوانوں کو جدید علم اور عملی مہارتوں سے لیس کرنے کے لیے کیے جانے والے جامع اقدامات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان اصلاحات کے نتیجے میں تعلیم کے معیار میں نمایاں بہتری آئی ہے اور بین الاقوامی تعاون کے لیے وسیع مواقع پیدا ہوئے ہیں۔
یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ حالیہ برسوں میں ازبکستان تعلیمی خدمات کی برآمد کے حوالے سے ایک علاقائی مرکز کے طور پر اپنی حیثیت مستحکم کر رہا ہے۔ آج ازبکستان میں دنیا کے مختلف ممالک، بشمول پاکستان، سے آنے والے طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ازبکستان میں متعدد معروف غیر ملکی جامعات کی شاخیں بھی کام کر رہی ہیں۔
ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے ازبکستان میں تعلیم کے شعبے میں ہونے والی مثبت تبدیلیوں کو سراہتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید گہرا کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ پاکستانی فریق تعلیمی تبادلوں اور مشترکہ منصوبوں کی حمایت کے لیے تیار ہے۔
ملاقات کے دوران مشترکہ تعلیمی پروگراموں کے آغاز، تحقیقی اقدامات کی ترقی، طلبہ اور اساتذہ کے تبادلے، اور خصوصی تربیت کے ذریعے افرادی صلاحیت بڑھانے جیسے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
مزید برآں، تعلیمی پروگراموں کی مشترکہ منظوری (اکریڈیشن) کے امکانات پر بھی غور کیا گیا، جس سے تعلیم کے معیار کی نگرانی کو مضبوط بنانے اور ڈگریوں کی بین الاقوامی سطح پر شناخت کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔
ملاقات میں پاکستان میں تاشقند اسٹیٹ میڈیکل یونیورسٹی کی شاخ کے قیام کے عمل کو تیز کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی تعاون کو ایک نئی سطح پر لے جانے، طبی تعلیم کے شعبے میں جدید تجربات کے تبادلے کو فروغ دینے اور پاکستانی طلبہ کے لیے نئے مواقع فراہم کرنے کے حوالے سے اہم قرار دیا گیا۔
متعلقہ خبریں
سفیر علیشیر تختائیف: تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو وسعت دینا – پاکستان-ازبک مذاکرات میں اولین ترجیح
ممتاز پاکستانی میگزین "پاکستان ان دی ورلڈ" نے ازبکستان کے سفیر علیشیر تختائیف کا انٹرویو شائع کیا ہے۔
اسلام آباد میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ازبکستان-پاکستان تعاون کو مزید تیز کرنے کے امکانات کا تعین
ازبکستان کے سفیر علی شیر توختایف نے پاکستان کی وفاقی وزیرِ مملکت برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجیہہ قمر سے ملاقات کی۔
جمہوریہ ازبکستان کے پاکستان میں سفارت خانے کا بیان
پاکستان میں جمہوریہ ازبکستان کا سفارت خانہ، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں ریلوے لائن پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے نتیجے میں انسانی جانوں کے ضیاع اور زخمی ہونے والوں پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتا ہے۔