ازبکستان کے مرکزِ اسلامی تہذیب میں خطاطی کا مدرسہ قائم
ازبکستان کے مرکزِ اسلامی تہذیب میں ایک خطاطی کا مدرسہ قائم کیا گیا ہے۔
ازبکستان کے مرکزِ اسلامی تہذیب میں خطاطی کا مدرسہ قائم
ازبکستان کے مرکزِ اسلامی تہذیب میں ایک خطاطی کا مدرسہ قائم کیا گیا ہے۔
اس اہم سائنسی اور تعلیمی منصوبے کا اعلان ایک سیمینار کے دوران کیا گیا جس کا عنوان تھا: “دورِ تیموری کی خطاطی کا ورثہ – روایات کا تسلسل”، جو عظیم سپہ سالار امیر تیمور کی ولادت کی 690ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد ہوا۔
یہ سیمینار خطاطی کی روحانی اور ثقافتی اہمیت پر وسیع مباحثے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوا، جس میں اسلامی فنون، تاریخ اور علمِ لسانیات کے ممتاز ماہرین نے شرکت کی۔
مرکزِ اسلامی تہذیب کے ڈائریکٹر فردوس عبدالخالِقوف نے اپنے خطاب میں کہا:
“مرکزِ اسلامی تہذیب میں خطاطی کے مدرسے کے قیام کی تجویز ہمارے معزز صدر نے 29 جنوری 2025 کو پیش کی تھی۔ ایک سال بعد اس اقدام کو تمام بین الاقوامی تنظیموں کی حمایت حاصل ہو چکی ہے اور تیموری تہذیب کے حوالے سے منعقدہ کانفرنس کے دائرہ کار میں اس منصوبے کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ خطاطی کے مدرسے کا قیام ہمارے ملک میں ثقافتی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے جاری وسیع اصلاحات کا منطقی تسلسل ہے۔”
جیسا کہ بیان کیا گیا، تیموری دور میں خطاطی کا فن اپنے عروج پر پہنچ گیا تھا اور یہ ثقافتی ترقی کی علامت بن گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق، مرکزی ریاست کے قیام کے بعد امیر تیمور نے مختلف علاقوں سے بہترین خطاطوں کو دارالحکومت میں جمع کیا۔ ثلث، نستعلیق اور کوفی جیسے اسالیب نے اپنی بلند ترین سطح حاصل کی، اور مشہور مخطوطات، جیسے معروف “بایسنغُر قرآن”، اسی دور میں تحریر کیے گئے۔
بین الاقوامی ماہرین نے اس اقدام کو بہت سراہا۔ بالخصوص، محمود ایرول کلیچ، ڈائریکٹر جنرل IRCICA، نے عالمی ثقافت میں اسلامی خطاطی کے کردار اور اس کی اعلیٰ جمالیاتی و روحانی قدر پر روشنی ڈالی۔ ترکی کے ادارۂ مخطوطات کے چیئرمین کوشکن یلماز نے سلیمانیہ لائبریری میں محفوظ نایاب مخطوطات کے بارے میں معلومات فراہم کیں اور اس بات پر زور دیا کہ ان میں سے ایک بڑی تعداد کا تعلق وسطی ایشیا کی تاریخ سے ہے۔ برطانیہ میں قائم الفرقان اسلامی ورثہ فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر سالی شاہسواری نے تیموری دور کو حقیقی تعلیمی اور ثقافتی بیداری کا زمانہ قرار دیا۔
اس بات پر زور دیا گیا کہ خطاطی کا یہ مدرسہ صرف ایک تعلیمی ادارہ ہی نہیں بلکہ ایک سائنسی تحقیقی اور ثقافتی مرکز کے طور پر بھی کام کرے گا۔ اس کے دائرہ کار میں ماہرین کی تربیت، مخطوطات کے تحفظ اور بحالی، اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا شامل ہے۔
متعلقہ خبریں
افغانستان کی وزارتِ خارجہ کے مرکز برائے تزویراتی مطالعات اور تیسرے سیاسی شعبے کے ڈائریکٹر جنرل کے ساتھ ملاقات کے بارے میں
14 اپریل 2026 کو جمہوریہ ازبکستان کے صدر کے افغانستان کے لیے خصوصی نمائندے اسمت اللہ ارگاشیف نے افغانستان کی وزارتِ خارجہ کے مرکز برائے تزویراتی مطالعات اور تیسرے سیاسی شعبے کے ڈائریکٹر جنرل عبدالحئی قانیت کے ساتھ ملاقات کی۔
ازبکستان کے وزیرِ خارجہ کی امریکی نائب معاون وزیرِ خارجہ سے ملاقات
14 اپریل کو ازبکستان کے وزیرِ خارجہ بختیار سعیدوف نے امریکہ کے نائب معاون وزیرِ خارجہ کرسٹوفر کلائن سے ملاقات کی۔
اسلام آباد میں ٹیکسٹائل کے شعبے میں ازبکستان اور پاکستان کے درمیان تعاون کو مزید تیز کرنے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا
ازبکستان کے سفیر علیشیر توختایف نے پاکستان نِٹ ویئر مصنوعات کے تیار کنندگان اور برآمد کنندگان کی ایسوسی ایشن کے چیئرمین طارق محمود بھٹی سے ملاقات کی۔