پاکستانی کمپنی ازبکستان میں ٹیکسٹائل اداروں کو ٹرسٹ مینجمنٹ کے تحت لینے کے مواقع کا جائزہ لینے لگی
ازبکستان کے سفیر علی شیر توختائیف نے ازبکستان کی لائٹ انڈسٹری کی ترقی کی ایجنسی کے نائب چیئرمین رخِلو ذکراللہیف اور پاکستانی کمپنی میگنا پروسیسنگ کے سربراہ سعید اللہ کے ساتھ آن لائن ملاقات کی۔
ازبکستان کے سفیر علی شیر توختائیف نے ازبکستان کی لائٹ انڈسٹری کی ترقی کی ایجنسی کے نائب چیئرمین رخِلو ذکراللہیف اور پاکستانی کمپنی میگنا پروسیسنگ کے سربراہ سعید اللہ کے ساتھ آن لائن ملاقات کی۔
اجلاس کے دوران فریقین نے ازبکستان کے ٹیکسٹائل شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور کم منافع بخش ٹیکسٹائل اداروں کو ٹرسٹ مینجمنٹ کے تحت غیر ملکی سرمایہ کاروں کے حوالے کرنے کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
سفیرعلی شیر تُختائیف نے پاکستانی فریق کو ازبکستان کی ٹیکسٹائل صنعت میں جاری وسیع اصلاحات سے آگاہ کیا، جن میں کاٹنءٹیکسٹائل کلسٹر نظام، شعبے میں نظامی تبدیلیاں اور ریاست کی جانب سے فراہم کردہ مراعات و سہولیات شامل ہیں۔
مزید برآں، غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول، ٹیکس و کسٹمز مراعات، روئی کے فائبر کی گہری پراسیسنگ کی موجودہ صنعتی صلاحیت، ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی تیاری کے مواقع اور ملکی و بین الاقوامی منڈیوں کی ضروریات سے متعلق تفصیلی معلومات بھی فراہم کی گئیں۔
اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ازبکستان اور پاکستان کے درمیان ٹیکسٹائل و لائٹ انڈسٹری کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے وسیع اور ابھی تک غیر استعمال شدہ صلاحیت موجود ہے۔ خصوصاً ۲۰۲۵ کے اخٹام تک ازبکستان سے پاکستان برآمد کی جانے والی ٹیکسٹائل مصنوعات کا حجم ۲۱.۵ ملین ڈالر تک پہنچ گیا۔
مذاکرات کے دوران عالمی برانڈز کے لیے مسابقتی تیار شدہ ٹیکسٹائل مصنوعات کی مشترکہ پیداوار پر خصوصی توجہ دی گئی۔ ازبک فریق نے موجودہ ٹیکسٹائل اداروں کو ٹرسٹ مینجمنٹ کے تحت پاکستانی شراکت داروں کے حوالے کرنے کی آمادگی ظاہر کرتے ہوئے ان کی پیداواری صلاحیت، مالی حالت اور جدید کاری کی ضروریات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کیں۔
یہ بھی واضح کیا گیا کہ ازبکستان ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات میں عالمی سطح پر مضبوط مقام رکھتا ہے، جہاں اس کی برآمدی ساخت دھاگے سے لے کر تیار ملبوسات تک مکمل ویلیو چین پر مشتمل ہے۔
کمپنی کے سربراہ سعید اللہ نے ازبک ٹیکسٹائل اداروں کو ٹرسٹ مینجمنٹ کے تحت لینے میں گہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے اس سمت میں عملی اقدامات اٹھانے کی تیاری ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی ماہرین نے ازبکستان کی ٹیکسٹائل صنعت، مارکیٹ انفراسٹرکچر اور معاشی ماحول کا تفصیلی جائزہ لیا ہے اور تعاون کے امکانات کو مثبت قرار دیا ہے۔
سعید اللہ نے کہا، “ہمیں ازبکستان میں دھاگہ، کپڑا اور دیگر ٹیکسٹائل مصنوعات تیار کرنے اور انہیں پاکستان برآمد کرنے کے ساتھ ساتھ مشترکہ برانڈز کے تحت تیار ملبوسات کو یورپی منڈیوں تک پہنچانے کا موقع حاصل ہے۔ اس وقت پاکستان متعڈ معروف یورپی برانڈز کے لیے تیار مصنوعات تیار کر رہا ہے، اور ہم یہ تجربہ ازبکستان میں منتقل کرنے کے لیے تیار ہیں۔”
اجلاس کے اختتام پر پاکستانی فریق کی جانب سے اٹھائے گئے مختلف سوالات کے تفصیلی جوابات بھی فراہم کیے گئے، جن میں ٹیکسٹائل اداروں کی پیداواری صلاحیت، تیار مصنوعات کی ترسیل کے راستے، برآمدی منڈیاں اور ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر شامل تھے۔
متعلقہ خبریں
غیر ملکی سیاحوں کے لیے VAT کی واپسی کا نظام ازبکستان میں نافذ العمل ہے۔
1 اپریل 2026 سے، ازبکستان کے تمام بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر غیر ملکی شہریوں کے لیے ویلیو ایڈڈ ٹیکس ریفنڈ (ٹیکس فری) کا نظام شروع کیا گیا ہے۔
ٹسکنی ریجن کے گورنر سے ملاقات پر
14 جولائی کو وزارت خارجہ نے اٹلی کے ٹسکنی ریجن کے گورنر یوجینیو گیانی سے ملاقات کی۔
وزیرِ خارجہ نے بیلاروس۔ازبکستان دوستی کی شاہراہ کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی
جمہوریہ ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف کے جمہوریہ بیلاروس کے سرکاری دورے کے دوران، جمہوریہ ازبکستان کے وزیرِ خارجہ بختیار سعیدوف نے منسک کے تاشکینتسکایا اسٹریٹ پر قائم بیلاروس۔ازبکستان دوستی کی شاہراہ کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔