تاشقند کو وسطی ایشیا کے سرمایہ کاری مرکز کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے: پانچویں بین الاقوامی سرمایہ کاری فورم کی تیاریاں مکمل
تاشقند میں پانچواں بین الاقوامی سرمایہ کاری فورم 16 سے 19 جون 2026 تک منعقد ہوگا، جس کا مرکزی موضوع "سرمایہ کاری کی مضبوطی: نئی راہیں، نئی شراکتیں" رکھا گیا ہے۔ فورم میں عالمی غیر یقینی صورتحال کے دوران سرمایہ کے تحفظ، ابھرتی منڈیوں میں سرمایہ کاری کے استحکام کے طریقہ کار، اور نئی شراکت داریوں کے امکانات پر غور کیا جائے گا۔
تاشقند میں پانچواں بین الاقوامی سرمایہ کاری فورم 16 سے 19 جون 2026 تک منعقد ہوگا، جس کا مرکزی موضوع "سرمایہ کاری کی مضبوطی: نئی راہیں، نئی شراکتیں" رکھا گیا ہے۔ فورم میں عالمی غیر یقینی صورتحال کے دوران سرمایہ کے تحفظ، ابھرتی منڈیوں میں سرمایہ کاری کے استحکام کے طریقہ کار، اور نئی شراکت داریوں کے امکانات پر غور کیا جائے گا۔
ازبکستان کی معیشت کے تناظر میں یہ فورم خاص اہمیت کا حامل ہے۔ قومی شماریاتی کمیٹی کے مطابق 2025 میں ملک کی مجموعی قومی پیداوار میں 7.7 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 147 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی، جو 2021 کے بعد سب سے تیز رفتار ترقی ہے۔ عالمی درجہ بندی کے اداروں نے ملک کی خودمختار درجہ بندی میں بہتری کی ہے جبکہ بین الاقوامی ذخائر 77 ارب ڈالر سے زائد ہو چکے ہیں۔ برآمدات میں 24 فیصد اضافہ ہو کر 33.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
فورم کا دائرہ کار بھی معیشت کے ساتھ وسعت اختیار کر رہا ہے۔ گزشتہ سال اس تقریب میں 8 ہزار سے زائد شرکاء نے شرکت کی، جن میں 97 ممالک سے 3 ہزار بین الاقوامی مندوبین شامل تھے۔ متعدد عالمی رہنماؤں اور مالیاتی اداروں کے سربراہان نے بھی شرکت کی، جبکہ مجموعی طور پر 30.5 ارب ڈالر کے معاہدے طے پائے۔
اس سال فورم کا مرکزی پہلو تاشقند بین الاقوامی مالیاتی مرکز ہوگا، جو مارچ 2026 میں صدارتی حکم نامے کے تحت قائم کیا گیا۔ اس مرکز میں خصوصی قانونی نظام، مالیاتی خدمات کا نگران ادارہ، ثالثی مرکز، اور 2076 تک ٹیکس میں چھوٹ جیسی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔
فورم کے پروگرام کو چار بنیادی موضوعات میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں سرمایہ کاری کا تحفظ، مالیاتی ڈھانچہ، تجارتی روابط اور توانائی کی منتقلی شامل ہیں۔ خصوصی نشستوں میں متبادل سرمایہ کاری فنڈز، وسطی راہداری اور ٹرانس کیسپین لاجسٹکس، اور خطے کی خودمختار درجہ بندیوں پر گفتگو شامل ہوگی۔
توانائی کے شعبے میں ازبکستان نے 2030 تک بجلی کی پیداوار میں قابل تجدید توانائی کا حصہ 54 فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس وقت ملک میں 4 گیگاواٹ سے زائد صلاحیت کے شمسی اور ہوا سے چلنے والے منصوبے فعال ہیں، جبکہ مزید 19 گیگاواٹ منصوبوں پر کام جاری ہے۔
فورم کے دوران مختلف ممالک کے ساتھ دوطرفہ کاروباری اجلاس بھی منعقد ہوں گے، جن میں جنوبی کوریا، امریکہ، ترکی، ہنگری اور دیگر ممالک شامل ہیں۔ اس کے ساتھ صنعتی اور سرمایہ کاری نمائش بھی منعقد کی جائے گی، جس میں درجنوں کمپنیوں کے درمیان کاروباری ملاقاتیں متوقع ہیں۔
فورم میں درپیش چیلنجز پر بھی روشنی ڈالی جائے گی، جن میں کارپوریٹ نظم و نسق، نجکاری کے عمل کی رفتار، اور ذمہ دار کاروباری طرز عمل جیسے موضوعات شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق صرف ٹیکس مراعات کافی نہیں بلکہ شفافیت اور ادارہ جاتی بہتری بھی ضروری ہے۔
نیٹ ورکنگ سرگرمیوں میں کاروباری اجلاس، سرمایہ کاروں کی نشستیں، ماحولیاتی، سماجی اور نظم و نسق ایوارڈ تقریب اور غیر رسمی تقریبات بھی شامل ہوں گی، جن کا مقصد بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے درمیان تعلقات کو فروغ دینا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ فورم اب محض نمائشی تقریب نہیں رہا بلکہ سرمایہ کاری پالیسی کا ایک مؤثر ذریعہ بن چکا ہے، جس کی کامیابی کا اندازہ معاہدوں کے بجائے حقیقی سرمایہ کاری کے حجم سے لگایا جاتا ہے۔ پانچواں فورم ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ملک مالیاتی مرکز کے قیام، نئے قوانین کے نفاذ اور عالمی درجہ بندی میں بہتری جیسے اہم مراحل سے گزر رہا ہے، جو سرمایہ کاروں کے لیے ایک سنہری موقع فراہم کرتا ہے۔
متعلقہ خبریں
بخارا کا نیا انتظامی مرکز – عوام سے قربت کی پالیسی کا عملی مظہر
بخارا کے دورے کے دوران صدر شوکت مرزیایف نے بخارا علاقے کے نئے انتظامی مرکز میں جاری تعمیری و ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا۔
جمہوریہ کوریا کی وزارتِ خارجہ میں ملاقات کے بارے میں
9 اپریل کو، “5+1” فارمیٹ میں نائب وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کے دائرۂ کار میں، جمہوریہ ازبکستان کے نائب وزیر خارجہ اولمجون عبداللہ ایو نے جمہوریہ کوریا کے نائب وزیر خارجہ لم سانگ وو سے ملاقات کی۔
سیول میں کوریا–وسطی ایشیا سربراہی اجلاس کی تیاری کے سلسلے میں اعلیٰ سطحی حکام کا اجلاس منعقد
10 اپریل 2026 کو سیول میں جمہوریہ کوریا اور وسطی ایشیائی ممالک کے سربراہانِ مملکت کے پہلے سربراہی اجلاس کی تیاری کے لیے سینئر حکام کا پہلا اجلاس منعقد ہوا۔