پاکستان کی ایک بڑی کاروباری کمپنی نے ازبکستانی منڈی میں داخلے کے لیے مذاکرات کا آغاز کر دیا
ازبکستان کے سفیر علی شیر تُختایف نے پاکستان کی ایک معروف کاروباری کمپنی کے نگران مجلس کے رکن اور بڑے کاروباری گروپ کے سربراہ محمد سہیل طبہ کے ساتھ اہم مذاکرات کیے۔
ازبکستان کے سفیر علی شیر تُختایف نے پاکستان کی ایک معروف کاروباری کمپنی کے نگران مجلس کے رکن اور بڑے کاروباری گروپ کے سربراہ محمد سہیل طبہ کے ساتھ اہم مذاکرات کیے۔
یہ ملاقات ازبکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے ساتھ ساتھ ریاستی قیادت کی جانب سے ملک میں ٹیکسٹائل اور ادویہ سازی کی صنعتوں کی ترقی سے متعلق دی گئی ہدایات پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے مقصد سے منعقد کی گئی۔
مذاکرات کے آغاز میں سفیر علی شیر تُختایف نے پاکستانی فریق کو ازبکستان میں ٹیکسٹائل اور لائٹ انڈسٹری کے شعبوں میں جاری اصلاحات، غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے فراہم کردہ سازگار حالات، کپاس ٹیکسٹائل کلسٹرز کی سرگرمیوں، اور خصوصی اقتصادی زونز میں دستیاب مواقع سے تفصیل سے آگاہ کیا۔ اس کے علاوہ ازبکستان اور پاکستان کے درمیان اس شعبے میں تعاون کو مزید وسعت دینے کی موجودہ صلاحیت اور کراچی میں قائم ازبکستان کے تجارتی مرکز کی سرگرمیوں پر بھی روشنی ڈالی گئی۔
اس موقع پر فروری ۲۰۲۵ میں وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کے ازبکستان کے سرکاری دورے اور اسی سال ۵ تا ۶ فروری کو صدر ازبکستان شوکت مرزائف کے پاکستان کے ریاستی دورے کے دوران طے پانے والے معاہدوں کو خصوصی اہمیت دی گئی۔ خصوصاً ازبکستان پاکستان کاروباری فورم میں ازبک صدر کی جانب سے پیش کی گئی اس تجویز کو سراہا گیا جس کے تحت ٹیکسٹائل کارخانوں کو پاکستانی سرمایہ کاروں کے قابلِ اعتماد انتظام میں دینے کا اقدام سامنے آیا، جس نے نمایاں دلچسپی حاصل کی۔
پاکستانی فریق کو ازبکستان میں کپڑے کی تیاری کے منصوبے شروع کرنے اور ملک میں موجود کم استعداد والے ٹیکسٹائل اداروں کے انتظام میں شرکت کے امکانات پر غور کرنے کی پیشکش کی گئی۔
محمد سہیل طبہ نے اس موقع پر کہا کہ وہ متعڈ بار ازبکستان کا دورہ کر چکے ہیں اور بالخصوص سمرقند شہر نے ان پر گہرا اثر چھوڑا۔ انہوں نے ازبک قومی کھانوں، خصوصاً نان، مانتی، سموسہ اور خشک میوہ جات جیسے اخروٹ اور انجیر کے ذائقے کو سراہا، اور ازبکستان کے ٹیکسٹائل شعبے کی صلاحیتوں سے اپنی آگاہی کا اظہار کیا۔
انہوں نے پیش کردہ تجاویز میں گہری دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ازبکستان میں قابلِ اعتماد شراکت دار دستیاب ہوں تو وہ ٹیکسٹائل کے شعبے میں عملی تعاون شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے مزید کہا:
“اس کے علاوہ ہم ادویہ سازی، توانائی اور مشین سازی کے شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کے منصوبوں کا جائزہ لینے کے لیے تیار ہیں۔ ہم کراچی میں کِیا گاڑیوں کی تیاری بھی کرتے ہیں، اور ہمیں ازبکستان میں عالمی معیار کی مسافر گاڑیوں کی پیداوار کے بارے میں علم ہے۔ اس شعبے میں بھی مشترکہ منصوبے شروع کرنے کے امکانات موجود ہیں۔”
ملاقات کے اخٹام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ازبکستان کی متعلقہ وزارتوں اور اداروں کی شرکت کے ساتھ ابتدائی طور پر آن لائن ملاقاتوں کا انعقاد کیا جائے گا، جس کے بعد کمپنی کے وفد کا ازبکستان کا کاروباری دورہ بھی ترتیب دیا جائے گا۔
متعلقہ خبریں
ازبکستان اور قازقستان نے تجارتی اور اقتصادی تعاون کے روڈ میپ پر دستخط کئے
آستانہ کے ورکنگ وزٹ کے ایک حصے کے طور پر، ازبکستان کے صدر شوکت مرزیوئیف اور قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایف نے سرمایہ کاری اور تجارت کے شعبوں میں طے پانے والے معاہدوں پر عمل درآمد کے لیے ایکشن پلان پر دستخط کرنے کی تقریب میں شرکت کی۔
جاپان کے نائب وزیر انصاف سے ملاقات پر
28 مئی کو، جمہوریہ ازبکستان کے خارجہ امور کے نائب وزیر اولیم جون عبدلائیف نے ٹوکیو میں جاپان کے نائب وزیر انصاف ہیروشی موریموٹو سے ملاقات کی۔
اپان کی امیگریشن سروسز ایجنسی کے کمشنر کے ساتھ ملاقات پر
28 مئی کو، جمہوریہ ازبکستان کے خارجہ امور کے نائب وزیر اولیم جون عبدلائیف نے ٹوکیو میں جاپان کی امیگریشن سروسز ایجنسی کے کمشنر Hideharu Maruyama سے ملاقات کی۔