ازبکستان میں اسلامی تہذیب کے مرکز کو ترک دنیا کا بہترین عجائب گھر قرار دے دیا گیا
ازبکستان میں قائم اسلامی تہذیب کے مرکز کو بین الاقوامی ترک ثقافتی تنظیم ترکسوئے کی جانب سے “ترک دنیا کا بہترین عجائب گھر” قرار دیا گیا ہے۔
ازبکستان میں قائم اسلامی تہذیب کے مرکز کو بین الاقوامی ترک ثقافتی تنظیم ترکسوئے کی جانب سے “ترک دنیا کا بہترین عجائب گھر” قرار دیا گیا ہے۔
یہ اعلان تنظیم کے سیکریٹری جنرل سلطان رایف نے امیر تیمور کی پیدائش کی 690ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ ایک بین الاقوامی سائنسی کانفرنس کے دوران کیا۔
ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایف کے اقدام پر مختصر مدت میں تعمیر کیا جانے والا یہ مرکز آج نہ صرف ایک منفرد طرزِ تعمیر کا شاہکار سمجھا جاتا ہے بلکہ مشرق اور مغرب کی تہذیبوں کے درمیان ایک علامتی پل کی حیثیت بھی رکھتا ہے۔ اپنے تصور، مواد اور سائنسی و تعلیمی پہلوؤں کے ذریعے یہ مرکز اسلامی تہذیب کی تخلیقی اور فکری صلاحیتوں کو نمایاں طور پر اجاگر کرتا ہے۔
تقریب کے دوران “بہترین عجائب گھر” کا سرٹیفکیٹ پیش کرتے ہوئے سلطان رایف نے صدر شوکت مرزیایف کی اس پالیسی کو خصوصی طور پر سراہا جس کا مقصد اسلامی تہذیب کے ورثے کا گہرائی سے مطالعہ اور عالمی سطح پر فروغ ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر کی خصوصی توجہ کے باعث آج امیر تیمور اور اسلامی ثقافت کے ورثے پر جامع تحقیق ہو رہی ہے، نئی سائنسی اور تخلیقی کاوشیں سامنے آ رہی ہیں اور جدید سائنسی و تعلیمی مراکز قائم کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق دنیا میں اس نوعیت کا کوئی اور مرکز موجود نہیں، جو کہ تیسرے نشاۃ ثانیہ کے نظریات کی واضح عکاسی ہے، جبکہ ازبکستان محض بیانات تک محدود نہیں بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے مثال قائم کر رہا ہے۔
اس موقع پر ازبکستان میں اسلامی تہذیب کے مرکز کے ڈائریکٹر فردوس عبدالخالیکوف نے بھی اس اعزاز پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ مرکز صدر کی براہِ راست رہنمائی اور وژن کے تحت قائم ہونے والا ترک دنیا کے اہم ترین منصوبوں میں سے ایک ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست کے سربراہ نے اس کی تعمیر کے ہر مرحلے کی ذاتی نگرانی کی، اور آج ہر آنے والا یہاں سے گہرے تاثرات لے کر واپس جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ترکسوئے ایک باوقار بین الاقوامی تنظیم ہے جو آذربائیجان، قازقستان، کرغیزستان، ازبکستان، ترکمانستان اور ترکی جیسے ممالک کو یکجا کرتی ہے اور اسے اکثر “ترک دنیا کا یونیسکو” بھی کہا جاتا ہے۔ ان ممالک کے عجائب گھروں کی مجموعی تعداد تقریباً 1300 کے قریب ہے، جن میں ازبکستان کا یہ مرکز اپنی منفرد تخلیقی سوچ، گہرے نظریاتی تصور اور جدید طرزِ عمل کے باعث نمایاں مقام رکھتا ہے۔
مزید برآں، فردوس عبدالخالیکوف نے بتایا کہ اس مرکز کی سرگرمیوں میں عالمی دلچسپی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ خاص طور پر ہنگری کی حکومت نے اس کے تجربے سے استفادہ اور اسی طرز کے منصوبے پر تعاون میں دلچسپی ظاہر کی ہے، جبکہ جرمنی کی ریاست باویریا کی قیادت نے بھی اسلامی تعلیمات کو فروغ دینے کے لیے تعاون کی آمادگی ظاہر کی ہے۔
تقریب کے اختتام پر اس بات پر زور دیا گیا کہ یہ اعزاز مرکز کے اعلیٰ بین الاقوامی وقار، اس کی سائنسی و ثقافتی اہمیت اور ترک دنیا میں اس کی گہری پذیرائی کا واضح ثبوت ہے۔
متعلقہ خبریں
ازبکستان اور قازقستان نے تجارتی اور اقتصادی تعاون کے روڈ میپ پر دستخط کئے
آستانہ کے ورکنگ وزٹ کے ایک حصے کے طور پر، ازبکستان کے صدر شوکت مرزیوئیف اور قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایف نے سرمایہ کاری اور تجارت کے شعبوں میں طے پانے والے معاہدوں پر عمل درآمد کے لیے ایکشن پلان پر دستخط کرنے کی تقریب میں شرکت کی۔
جاپان کے نائب وزیر انصاف سے ملاقات پر
28 مئی کو، جمہوریہ ازبکستان کے خارجہ امور کے نائب وزیر اولیم جون عبدلائیف نے ٹوکیو میں جاپان کے نائب وزیر انصاف ہیروشی موریموٹو سے ملاقات کی۔
اپان کی امیگریشن سروسز ایجنسی کے کمشنر کے ساتھ ملاقات پر
28 مئی کو، جمہوریہ ازبکستان کے خارجہ امور کے نائب وزیر اولیم جون عبدلائیف نے ٹوکیو میں جاپان کی امیگریشن سروسز ایجنسی کے کمشنر Hideharu Maruyama سے ملاقات کی۔