ازبکستان میں اسلامی تہذیب کا مرکز گنیز ورلڈ ریکارڈ میں شامل
ازبکستان کے اسلامی تہذیب کے مرکز کو دنیا کے سب سے بڑے اسلامی تہذیبی عجائب گھر کے طور پر باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے، جس پر اسے گنیز ورلڈ ریکارڈ کی جانب سے ایک ممتاز اعزاز سے نوازا گیا۔
ازبکستان کے اسلامی تہذیب کے مرکز کو دنیا کے سب سے بڑے اسلامی تہذیبی عجائب گھر کے طور پر باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے، جس پر اسے گنیز ورلڈ ریکارڈ کی جانب سے ایک ممتاز اعزاز سے نوازا گیا۔
اس سلسلے میں منعقدہ پروقار تقریب میں گنیز ورلڈ ریکارڈ کی جج شیڈا صوباشی جیمچی سمیت ادارے کے نمائندوں نے شرکت کی، جنہوں نے اس امر کی تصدیق کی کہ یہ مرکز تمام بین الاقوامی معیارات پر پورا اترتا ہے۔ تقریب میں ان معماروں، منصوبہ سازوں، ڈیزائنرز اور ماہرین تعمیرات نے بھی شرکت کی جنہوں نے اس عظیم منصوبے کی تکمیل میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ اعزاز مرکز کی سائنسی کونسل کے ارکان کے حوالے کیا گیا۔
شیڈا صوباشی جیمچی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بطور گنیز ورلڈ ریکارڈ کی جج وہ اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ عجائب گھر کا ہر گوشہ اور ہر نمونہ اپنی انفرادیت اور ثقافتی اہمیت کا حامل ہے۔ ان کے مطابق اس عظیم منصوبے کے پیچھے کئی برسوں کی محنت اور باریک بینی سے کیا گیا کام شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس عجائب گھر کا دورہ ایک گہرا اور متاثر کن تجربہ ثابت ہوا، اور اگرچہ ایک ہی مرتبہ میں تمام چیزوں کا احاطہ ممکن نہیں، تاہم جانچ کے عمل میں تمام طے شدہ اصولوں کی مکمل پابندی کی گئی۔
ازبکستان کا اسلامی تہذیب کا مرکز ایک وسیع سائنسی، تعلیمی اور عجائب گھر پر مشتمل منصوبہ ہے، جسے صدر شوکت مرزیوئیف کے تصور کے تحت ایک منفرد میگا پراجیکٹ کے طور پر تشکیل دیا گیا۔ اس منصوبے کا آغاز 2017 میں کیا گیا اور 17 مارچ 2026 کو مکمل ہوا۔ یہ مرکز “نئے ازبکستان” کے لیے ایک منفرد ثقافتی و تعلیمی پلیٹ فارم کے طور پر خدمات انجام دے رہا ہے، جہاں سائنسی صلاحیت، ثقافتی ورثہ اور جدید ٹیکنالوجی کو یکجا کیا گیا ہے۔
منصوبے کے چیف معمار عبدالقاہر تردییف نے کہا کہ اس مرکز کی انفرادیت اس کی تعمیراتی طرز میں مضمر ہے، جو ازبکستان کی قدیم تہذیب اور ثقافت کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کے مطابق جاری اصلاحات کے باعث ملک عالمی سطح پر اپنے آپ کو ایک سائنسی و ثقافتی مرکز کے طور پر منوا رہا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ یہ مرکز اب خطے کے نمایاں ترین ثقافتی و سائنسی مقامات میں شامل ہو چکا ہے، جہاں روزانہ پانچ ہزار تک افراد کا استقبال کیا جاتا ہے، جو مقامی اور غیر ملکی افراد کی بھرپور دلچسپی کا مظہر ہے۔
اسلامی تہذیب کے مرکز کے ڈائریکٹر فردوس عبدالخالقوف نے اس موقع پر کہا کہ یہ اعزاز دراصل صدر شوکت مرزیوئیف کے وژن کی عملی تعبیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے فراہم کردہ سہولیات کی بدولت اب مرکز کا بنیادی مقصد بڑے پیمانے پر سائنسی و تعلیمی منصوبوں کو فروغ دینا، ازبکستان کے ثقافتی ورثے کو محفوظ اور دنیا بھر میں متعارف کرانا، اور اسلام کے امن، خیر سگالی، علم اور رواداری کے پیغام کو اجاگر کرنا ہے۔
گنیز ورلڈ ریکارڈ کا درجہ حاصل کرنا ازبکستان کی حیثیت کو اسلامی علوم، ثقافت اور تعلیم کے ایک اہم عالمی مرکز کے طور پر مزید مضبوط بناتا ہے، جبکہ یہ مرکز مختلف تہذیبوں کے درمیان مکالمے کے لیے ایک جدید پلیٹ فارم کے طور پر بھی اپنی اہمیت ثابت کرتا ہے، جو باہمی احترام، رواداری اور ثقافتی تنوع کے اصولوں پر قائم ہے۔
متعلقہ خبریں
پاکستانی کمپنی ازبکستان میں مکمل صلاحیت سے کام نہ کرنے والے ٹیکسٹائل کمپلیکس کی بنیاد پر مشترکہ منصوبہ قائم کرے گی
ازبکستان کے سفارت خانے کی معاونت سے ازبکستان ایجنسی برائے ترقی ہلکی صنعت اور پاکستان کی کمپنی «Rajby Industries» کی قیادت کے درمیان ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ایک ملاقات کا انعقاد کیا گیا۔
پاکستانی کمپنی ازبکستان کے زرعی اور مویشی پروری کے شعبوں میں سرمایہ کاری منصوبہ نافذ کرے گی
ازبکستان کے سفیر علیشیر توختایف نے پاکستان کی کمپنی "Samsons Group of Companies" کے ڈائریکٹر وسیم الرحمٰن سے ملاقات کی۔
افغانستان کی وزارتِ خارجہ کے مرکز برائے تزویراتی مطالعات اور تیسرے سیاسی شعبے کے ڈائریکٹر جنرل کے ساتھ ملاقات کے بارے میں
14 اپریل 2026 کو جمہوریہ ازبکستان کے صدر کے افغانستان کے لیے خصوصی نمائندے اسمت اللہ ارگاشیف نے افغانستان کی وزارتِ خارجہ کے مرکز برائے تزویراتی مطالعات اور تیسرے سیاسی شعبے کے ڈائریکٹر جنرل عبدالحئی قانیت کے ساتھ ملاقات کی۔