ازبکستان ایک محفوظ اور کھلے سیاحتی مرکز کے طور پر اپنی پوزیشن مستحکم کر رہا ہے
سال 2025 کے نتائج کے مطابق ازبکستان نے سیاحت کے شعبے میں مستحکم اور تیز رفتار ترقی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ملک میں تقریباً ایک کروڑ بیس لاکھ غیر ملکی سیاحوں کی آمد ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 16 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
سال 2025 کے نتائج کے مطابق ازبکستان نے سیاحت کے شعبے میں مستحکم اور تیز رفتار ترقی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ملک میں تقریباً ایک کروڑ بیس لاکھ غیر ملکی سیاحوں کی آمد ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 16 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
سیاحتی خدمات کی برآمدات 4.8 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر گئیں، جو ازبکستان میں بڑھتی ہوئی عالمی دلچسپی کی عکاسی کرتی ہیں اور اسے خطے کے نمایاں اور امید افزا سیاحتی مقامات میں شامل کرتی ہیں۔
یہ کامیابیاں سیاحت کے شعبے میں مسلسل اصلاحات کے نتیجے میں حاصل ہوئی ہیں، جن کا مقصد بنیادی ڈھانچے کی بہتری، ٹرانسپورٹ تک رسائی کو آسان بنانا، خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن اور سیاحوں کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی ہے۔ ملک میں سیاحتی کلسٹرز کے قیام، خدمات کے معیار میں بہتری اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ کے لیے منصوبوں پر تیزی سے عملدرآمد جاری ہے۔
جمہوریہ ازبکستان نے غیر ملکی شہریوں کے لیے داخلے کے طریقہ کار کو بھی آسان بنا دیا ہے۔ اس وقت 94 ممالک کے شہریوں کو ویزا فری داخلے کی سہولت حاصل ہے، جبکہ 52 ممالک کے لیے الیکٹرانک ویزا نظام متعارف ہے، اور 45 ممالک کے شہریوں کے لیے پانچ روزہ ویزا فری ٹرانزٹ کی سہولت بھی دستیاب ہے۔
دنیا کے مختلف حصوں میں جاری جغرافیائی و سیاسی عدم استحکام، بشمول بعض ممالک میں بڑے پیمانے پر احتجاج اور مظاہروں کے تناظر میں سیاحوں کے لیے تحفظ اور آرام کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
اس صورتحال میں ازبکستان ایک مستحکم، محفوظ اور مہمان نواز ملک کے طور پر اپنی شناخت برقرار رکھے ہوئے ہے، جو ہر قومیت اور مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے کھلا ہے۔ احترام، رواداری اور خلوص پر مبنی مہمان نوازی ازبک ثقافت کا اہم حصہ ہیں۔
بین الاقوامی درجہ بندیوں نے بھی ازبکستان میں اعلیٰ سطح کے تحفظ کی تصدیق کی ہے۔ حالیہ برسوں میں یہ ملک عالمی سکیورٹی انڈیکس میں نمایاں پوزیشنز حاصل کرتا رہا ہے۔ خاص طور پر «انٹرنیشنل ایس او ایس رسک میپ» کے مطابق ازبکستان کو "کم خطرہ" والے ممالک میں شامل کیا گیا ہے، جو اسے مجموعی سکیورٹی کے لحاظ سے کئی یورپی ممالک کے ہم پلہ بناتا ہے۔
اسی طرح «نمبیو سیفٹی انڈیکس» کے مطابق ازبکستان دنیا کے 148 ممالک میں 25ویں نمبر پر ہے، جو جرائم کی کم شرح کی نشاندہی کرتا ہے۔ مزید برآں «سولو فی میل ٹریول سیفٹی انڈیکس» اور «سیفٹی پرسیپشنز انڈیکس» میں ازبکستان نے عالمی سطح پر پہلی پوزیشن حاصل کی، جہاں اسے اکیلے سفر کرنے والی خواتین کے لیے نہایت محفوظ ملک قرار دیا گیا۔ علاوہ ازیں «گیلپ گلوبل لاء اینڈ آرڈر انڈیکس» کے مطابق بھی ملک عوامی تحفظ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد کے حوالے سے دنیا کے سرِفہرست ممالک میں شامل رہا ہے۔
ان تمام جائزوں کے مجموعی اثر سے ازبکستان کا عالمی تشخص ایک محفوظ، مستحکم اور آرام دہ سیاحتی منزل کے طور پر مزید مضبوط ہوا ہے۔
آج ازبکستان اپنے مہمانوں کو نہ صرف عظیم شاہراہِ ریشم کی بھرپور ثقافتی اور تاریخی وراثت پیش کرتا ہے بلکہ جدید انفراسٹرکچر، آرام دہ سہولیات اور کشادہ دلی پر مبنی ماحول بھی فراہم کرتا